سیلف پورٹریٹ

 کوئی اس بات پر یقین کرے یا نا کرے لیکن مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میں ایک ایسا نابغہ روزگار شخص ہوں جو اگر ہر دو گھنٹوں کے بعد فیس بک پر اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ نہ کروں تو نہ صرف یہ دنیا ایک عالم و فاضل شخص کی عالمانہ تحریروں سے محروم رہ جائے گی بلکہ فیس بک کے مالک ” میرذاکر برق ” کا بھی دیوالیہ نکل جائے گا اور وہ کچھ ہی دنوں میں سڑکوں پر بھیک مانگتا نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں روز وقفے وقفے سے نہ صرف حکمت اور دانائی سے بھرپور اپنی تحریریں فیس بک کی زینت بناتا رہتا ہوں بلکہ دوسروں کی طرف سے شیئر کی جانے والی ہر تصویر، تحریر اور ویڈیو پر ماہرانہ رائے دینا بھی میں نے اپنے فرائض منصبی میں شامل کررکھا ہے۔                  تفصیل

نئی تحریریں

مقبول ترین

مقبول مضامین

  • ہم اس دیش کے باسی ہیں

    ہم اس دیش کے باسی ہیں

    ہم اس دیش کے باسی ہیں Thursday 3 January 2013 کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں …
  • کتا

    کتا

    کتا کتا بڑی دیر سے بھونک رہا تھا ساتھ ہی اپنے بدنماء دانتوں کی نمائش کرکے غرّا بھی رہا تھا …
  • جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟ ابّو یہ کون لوگ ہیں جو آئے دن ہمیں قتل کرتے ہیں؟ یہ …
  • ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ایسا کیوں ہوتا ہے؟

    ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب عقیدے یا سیاسی نظریات کی بات ہوتی ہے تو ہم …
  • چرا چنین میشود

    چرا چنین میشود

    چرا چنین میشود در مسابقهٔ نشان دادن راهٔ راست و درست بهشت به همدیگر ، بحدی از همدیگر سبقت گرفته …
  • کورونا وائرس،  پاکستان  اور  بدلتے سماجی رویے

    کورونا وائرس،  پاکستان  اور  بدلتے سماجی رویے

    کورونا وائرس،  پاکستان  اور  بدلتے سماجی رویے دسمبر 2019 میں جب چین کے مرکزی صنعتی شہر ووہان میں اچانک ایک …
  • قصہ ہائے ناتمام۔ ایک تعارف

    قصہ ہائے ناتمام۔ ایک تعارف

    قصہ ہائے ناتمام۔ ایک تعارف مذکورہ کتاب میں تیس ایسے مضامین شامل ہیں جو میں نے 2013 اور 2015 کے …
  • کورونا وائرس، ایک امتحان 

    کورونا وائرس، ایک امتحان 

    کورونا وائرس، ایک امتحان کورونا وائرس کے خوف نے ہماری سماجی زندگی کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ …
  • سنگسار

    سنگسار

    سنگسار اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔پہلا پتھر ٹھیک اس کی پیشانی پر پڑا تھا۔ اسے محسوس ہوا …
  • شگون

    شگون

    شگون وہ گھر سے تیار ہوکر دفتر جانے کے لئے نکلا تو اس کا موڈ بڑا خوش گوار تھا۔ اس …
  • مستقبل کا پاکستان

    مستقبل کا پاکستان

    مستقبل کا پاکستان پاکستان کو انگریزوں اور ہندوستان سے آزادی حاصل کئے ہوئے ساٹھ سال سے زیادہ بیت چکے ہیں۔ …
  • سلطان راہی کا پاکستان

    سلطان راہی کا پاکستان

    سلطان راہی کا پاکستان کوئی پندرہ سال پہلے کی بات ہے میں نے ٹیلی ویژن پر ایک اُوٹ پٹانگ پاکستانی …
  • پاکستان ایک تجربہ گاہ

    پاکستان ایک تجربہ گاہ

    پاکستان ایک تجربہ گاہ وطنِ عزیزمیں جس طرح ہر موسم کے پھل اور سبزیاں وافر مقدار میں موجود ہیں بالکل …
  • ہم اس دیش کے باسی ہیں

    ہم اس دیش کے باسی ہیں

    ہم اس دیش کے باسی ہیں Thursday 3 January 2013 کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں …
  • کتا

    کتا

    کتا کتا بڑی دیر سے بھونک رہا تھا ساتھ ہی اپنے بدنماء دانتوں کی نمائش کرکے غرّا بھی رہا تھا …

کالمز

بلاگ

مضامین

مقبول افسانے

فلیش فکشن

  • پرچون کی دکان

    پرچون کی دکان

    پرچون کی دکان ۔ 13 مئی، 2015 ۔۔۔۔ اسے یہاں …
  • تاش کی بازی

    تاش کی بازی

    تاش کی بازی  وہ بڑے انہماک سے تاش کھیلنے میں …
  • کالا چشمہ

    کالا چشمہ

    کالا چشمہ نہ جانے وہ رات کا کون سا پہر …
  • پناہ گاہ

    پناہ گاہ

    پناہ گاہ  وہ سارے سر جوڑے بیٹھے ہوئے تھے ۔ …
  • اکلوتا

    اکلوتا

    اکلوتا  "بیٹا آج واپسی پر اپنے ابو کے لئے آلہ …
  • سند

    سند

    سند تقریب اختتام کو پہنچی تو وہ ڈھیروں مباکبادیں سمیٹ …
  • اطمینان

    اطمینان

    اطمینان رقم تو اس نے لے لی تھی لیکن اس …
  • بے قراری

    بے قراری

    بے قراری وہ کئی دنوں سے ایک نامعلوم سی بے …
  • ناکہ

    ناکہ

    ناکہ اوئے، اوئے، رک، رک، رک۔ ادھر سائڈ کر۔ چل …
  • شہید راہ حق

    شہید راہ حق

    شہید راہ حق  احمدیوں کی مسجد کو آگ لگانے کے …
  • گفتگو

    گفتگو

    گفتگو ہیلو! • ہیلو! یار سنا ہے کہ آج بازار …
  • آنسو

    آنسو

    آنسو! باہر زوروں کی بارش ہورہی تھی جبکہ اندر ہال …
  • تھپڑ

    تھپڑ

    تھپڑ  29 فروری، 2016 ۔۔۔۔ میرے ابو بہت زیادہ پڑھے …
  • برکت

    برکت

    برکت 7 مارچ، 2016۔۔۔۔۔ "اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے …
  • بھائی جان

    بھائی جان

    بھائی جان 7 مارچ، 2016 ۔۔۔۔۔۔ وہ کھاتہ کھولےحساب کتاب …

مذکورہ کتاب میں تیس ایسے مضامین شامل ہیں جو میں نے 2013 اور 2015 کے درمیانی عرصے میں لکھے۔ ان میں سے کئی مضامین ڈان اردو سمیت بعض دیگر میگزینز پر شائع بھی ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک بھر میں وحشت کا راج تھا اور کوئٹہ شہر کی سڑکیں روز ہزارہ مرد، خواتین اور بچوں کے خون سے لال ہو رہی تھیں۔ ان مضامین میں ان اور ان جیسے دیگر مقتولین کا ذکر ہے اور یہ کتاب منسوب بھی انہیں مقتولوں کے نام  ہے جنہیں شہید قرار دے کر دفنا دیا گیا۔ ان تحریروں میں آہیں بھی ہیں اور سسکیاں بھی، شکوے بھی ہیں اور دہائیاں بھی، سازشوں کی کہانیاں بھی ہیں اور سرد مہریوں کے قصے بھی، مایوسیوں کے تذکرے بھی ہیں اور امید، عزم و استقامت کے استعارے بھی۔  یہ قتل و غارت کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا تاریک باب ہے جسے کتاب کے سانچے میں ڈھال کر دستاویز کی شکل دی گئی ہے۔